خرید بک لینک

درباره سایت

پاسداران حریم ولایت

آخرین مطالب

امکانات وب

انتظار فرج

اور وظیفہ جو مؤمنین پر عائد ہوتا ہے انتظار فرج ہے ۔کچھ لوگ لفظ انتا؟ر سے غلط معنی لیتے ہیں اور انتظار کو ایک ایسی حالت تصور کرتے ہیں کہ جس میں انسان بیٹھ کر یہ سوچتا ہے کہ فلانی مثلا کب آئے گا در حالیکہ انتظار کسی حالت کا نام نہیں ہے بلکہ انتظار ایک عمل ہے کہ حدیث شریف میں ایسے ہی معنی میں استعمال ہو اہے (( افضل الاعمال انتظار الفرج)) ؛ یعنی افضل ترین اعمال انتظار فرج ہے البتہ انتظار کا ہمیشہ ایک مقدمہ ہو تا ہے اگر وہ مقدمہ فراہم ہو تو لفظ انتظار صدق کرتا ہے اور اگر یہ مقدمہ فراہم نہ ہو تو لفظ انتظار صدق نہیں کرتا ،فرض کریں ایک کسان جب ایک خاص وقت میں زمین میں بیج بوتا ہے اور اس کے بعد اس کی آبیاری بھی اپنے وقت پر کرتا ہے خلاصتا سب وہ کام اس کی کاشت کے لیے انجام دیتا ہے جو اس کے لئے لازمی ہو پھر اس کے بعد اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب اس کی فصل پک جائے تا کہ کاٹ کر اس سے استفادہ کرے یہاں پر اس کسان کا انتطار کرنا بجا ہے اس کے بر عکس اگر کوئی شخص مقدمہ کو انجام نہیں دیتا اور انتطار کرتا ہے تو یہ انتظار بے جا ہو گا در واقع یہ انتظار نہیں بلکہ ایک فریب کاری ہے یا خود کو فریب میں ڈالتا ہے، یا دوسروں کو فریب دیتا ہے لھذا ہم اس شخص کو منتظر کہیں گے جو اس انتظار کا مقدمہ اچھی طرح انجام دے چکا ہو اورپھر لفظ انتظار بھی اس وقت صدق کرتا ہے لیکن اگر کوئی شخص مقدمے کے بغیر انتظار کرتا ہے تو یہ در واقع انتطار نہیں بلکہ فریب کاری ہے لہذا ہم سب کا یہ فریضہ ہے کہ پہلے انتظار کے اسباب کو آمادہ کریں پھر یہ انتظار بجا ہو گا انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو پورے طریقےسے ظہور کے لیے آمادہ کرے اورجب آمادہ ہو جائےتو پھر انتظار معنی رکھتا ہے ۔ انتظار اس وقت افضل الاعمال میں سے شمار ہوگا جب یہ اسباب اچھی طرح سے آمادہ ہوں ورنہ افضل الاعمال شمار نہیں ہو گا۔

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: پنجشنبه 23 خرداد 1398 ساعت: 17:48

صفحه بندی