1 1 1 1 1 1' href='/last-search/?q=اور'>اور 1 1 کا 1 ۔ 1 کی 1 اور 1 1 کا 1
بہت سارے مؤمنین نے پرسنل بھی اس بارے پوچھا ہے کہ یہ کوئی نیا فتویٰ آیا ہے، اس کی تفصیل کیا ہے؟
تو عرض خدمت یہ ہے کہ یہ کوئی نیا فتویٰ نہیں ہے بلکہ بہت ہی پرانا فتویٰ ہے کہ جسے آج سے تقریبا دس بارہ سال قبل ہم نے پڑھا تھا اور اس پرکافی ڈسکشن بھی ہوئی تھی ۔
آج بھی یہ فتویٰ رسمی ویب سائیٹ پر موجود ہے لیکن بہت سارے مؤمنین اس فتوے کو درست نہیں سمجھ پا رہے اور غلط فھمی کا شکار ہو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو بھی چیزیں یونی لیور برادر کی ہوں یا کسی برٹش کمپنی کی ہوں ان کا استعمال حرام ہے یعنی وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس میڈ ان برٹش یا میڈ بائی لیور برادر ہو یہی کافی ہے اس کے حرام ہونے کےلئے
جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ سب سے پہلے فتوے کا مطالعہ کرتے ہیں عربی متن کے ساتھ پھر اس پر کچھ مختصر وضاحت تحریر کرتے ہیں تاکہ مؤمنین کرام کی اس فتویٰ سے غلط فھمی کا ازالہ ہو سکے:
۔۔۔۔۔
فتویٰ عربی متن بمع حوالہ رسمی ویب سائیٹ:
السؤال: هل يجوز البيع والشراء من محلات تخصّص بعضاً من أرباحها لدعم إسرائيل ؟
الجواب: لاترخيص في التعامل بالمنتوجات الاسرائيلية ومنتوجات الشركات التي يثبت بصورة مؤكدة انها تدعم اسرائيل دعماً مؤثراً.
۔۔۔۔۔
اردو:
سوال: کیا ایسی دکانوں سے خرید و فروخت جائز ہے کہ جو اپنے پرافٹ کا کچھ حصہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کےلئے خاص کرتے ہیں؟
جواب:اسرائیکلی پروڈکٹس سے اور ان کمپنیوں کی پروڈکٹس کے ساتھ معاملہ کرنا درست نہیں ہے کہ جن کا یقینی طور پر اسرائیل کو مؤثر انداز سے سپورٹ کرنا ثابت ہو جائے ۔ ۔۔۔
رسمی ویب سائیٹ کا لنک حوالہ:
https://www.sistani.com/arabic/qa/search/5524/
۔۔۔۔
فتویٰ کی وضاحت:
اسرائیل کی بنائی گئی چیزوں سے معاملہ کرنا مطلقا حرام ہے لیکن اسرائیل کے علاوہ یھودی اور برٹش اور دیگر مختلف کمپنیوں کی بنائی گئی چیزوں کا استعمال کرنا ہر صورت میں حرام نہیں ہے بلکہ
فتویٰ میں ٹوٹل تین صورتیں ہیں اور فقط تیسری صورت میں ان چیزوں کی خرید و فروخت حرام ہے جبکہ پہلی دو صورتوں میں خرید فروخت جائز ہے۔
1:اگر صورت حال مشکوک ہو یا ظنی ہو اور مکمل یقینی طور پر ثابت نہ ہو کہ ان چیزوں کا پرافٹ اسرائیل کی سپورٹ کےلئے خاص کیا گیا ہے یا نہیں ۔
تو اس صوت میں ان چیزوں کا استعمال کرنا اور خرید و فروخت جائز ہے۔
2:اگر صورت حال یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ ان چیزوں کا پرافٹ اسرائیل کی سپورٹ کےلئے استعمال ہوتاہے لیکن شک اور ظنی صورتحال یہ ہو کہ یہ کوئی مؤثر قسم کی سپورٹ ہے یا غیر مؤثر قسم کی سپورٹ ہے یعنی کیا بہت بڑے اور مؤثر حصہ کے طور پر سپورٹ کیا جارہا ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو اسرائیل مشکلات کا شکار ہو جائے گا یا بہت تھوڑا حصہ ر سپورٹ کےلئے استعمال ہوتا ہے کہ اگر نہ بھی ہو تو اسرائیل کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔ کس طرح کی سپورٹ ہے یہ واضح نہیں ہے ۔
تو اس صورت میں بھی استعمال کرنا جائز ہوجائے گا۔
3: اگر سو فیصد یقنی طور پر ثابت ہوجائے کہ ان اشیاء کے پرافٹ کا ایک خاص حصہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کےلئے خاص کیا جا چکا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی سوفیصد یقینی طور پر ثابت ہوجائے کہ سپورٹ کرنے والا حصہ اتنا زیادہ ہے کہ جو واضح اور مؤثر انداز میں اسرائیل کو سپورٹ کرتا ہے یعنی اگر اس کو روک دیا جائے تو اسرائیل مشکلات کا شکار ہو جائے گا یہ دو باتیں سو فیصد یقینی طور پر ثابت ہو جائیں ۔
تو اس یقینی صورت حال میں ایسی چیزوں کی خریدوفرخت حرام ہو جائے گی ۔
نتیجہ: ہمارے علم میں کوئی بھی ایسی چیز جیسے صابن ، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ اور موبائل کمپنی وغیرہ نہیں ہیں کہ جن کے بارے میں یہ تیسری صورت ثابت ہو لہذا ان تمام چیزوں کا استعمال کرنا خود آغا سید سیستانی دام ظلہ العالی کے فتویٰ کے مطابق جائز ہو جائے گا چونکہ تیسری قسم کی صورت حال ثابت نہیں ہے بلکہ اسے ثابت کرنا بھی بہت ہی مشکل قسم کا کام ہے۔
ابو حیدر متعلم نجف اشرف عراق
10/20/2020
نوشته شده در پنجشنبه هشتم آبان ۱۳۹۹ ساعت 21:29 توسط : syeda fathya naqvi | دسته :
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر