خرید بک لینک

درباره سایت

پاسداران حریم ولایت

آخرین مطالب

امکانات وب

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

خیر_دنیا_و_آخرت

خیر_دنیا_و_آخرت

حضرت امام صادق علیہ السلام

كتَبَ رَجُلٌ إِلَى اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ: يَا سَيِّدِي أَخْبِرْنِي بِخَيْرِ اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ 

فَكَتَبَ إِلَيْهِ « بِسْمِ اَللّٰهِ اَلرَّحْمٰنِ اَلرَّحِيمِ » أَمَّا بَعْدُ

فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ رِضَى اَللَّهِ بِسَخَطِ اَلنَّاسِ كَفَاهُ اَللَّهُ أُمُورَ اَلنَّاسِ 

وَ مَنْ طَلَبَ رِضَى اَلنَّاسِ بِسَخَطِ اَللَّهِ وَكَلَهُ اَللَّهُ إِلَى اَلنَّاسِ 

وَ اَلسَّلاَمُ

 حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے والد اور انہوں نے اپنے والد سے روایت فرمائی:

کسی شخص نے حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کو تحریر کیا: اے میرے آقا! مجھے دنیا و آخرت کے خیر سے آگاہ کیجئے۔

 تو حضرت علیہ السلام نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد، 

جو شخص اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہے گا خواہ اس سے لوگ ناراض ہوجائیں تو خدا لوگوں کے معاملات میں اس کے لئے کافی ہوگا،

اور جو شخص خدا کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی رکھنا چاہے گا خدا اسے انہیں لوگوں پر چھوڑ دیگا۔ والسلام

الأمالي( للصدوق)، ص201، المجلس السادس و الثلاثون

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

سید سیستانی دام ظلہ العالی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ۔ فتوی کی وضاحت اور غلط فھمی کا ازالہ بہت سارے مؤمنین نے پرسنل بھی اس بارے پوچھا ہے کہ یہ کوئی نیا فتویٰ آیا ہے، اس کی تفصیل کیا ہے؟ تو عرض خدمت یہ ہے کہ یہ کوئی نیا فتویٰ نہیں ہے بلکہ بہت ہی پرانا فتویٰ ہے کہ جسے آج سے تقریبا دس بارہ سال قبل ہم نے پڑھا تھا اور اس پرکافی ڈسکشن بھی ہوئی تھی ۔ آج بھی یہ فتویٰ رسمی ویب سائیٹ پر موجود ہے لیکن بہت سارے مؤمنین اس فتوے کو درست نہیں سمجھ پا رہے اور غلط

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

سلسلہ سیرت بنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قسط 1  آج سے ہم بات

سلسلہ سیرت بنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قسط 1

آج سے ہم بات کریں گے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کی زات کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن کچھ لوگوں انھیں اپنے جیسا پشر سمجھتے تو کچھ انھیں علی کا بھائی کہنا ناجائز بتاتے اور کچھ لوگ یہ گمان کرتے کہ شیعہ خیر البریہ امام علی کو رسول اکرم ص سے افضل جانتے ھیں تو سلسلہ میں باہم ربط رکھیے گا آپ پر آشکار ھو جاے گا کہ حقیقت کیا ھے
جب بھی دنیا میں کسی تنظیم کا سلسلے کی ابتدا کی جاتی ھے چاہیے وہ مذہبی ھو یا سیاسی تو ہمیشہ دو چیزوں کا پہلے حساب لگایا جاتا ھے ایک افرادی قوت جسے ساتھ دینے والے یا قربان ھونے والے کہا جا سکتا ھے اور دوسری اہم چیز پیسہ تو شلیں یہ بھی دیکھیں گے کہ مشن نبی آخرالزمان میں جب خون کی ضرورت پڑی خون کس گھرانے کا لگا اور جب پیسے کی ضرورت پڑی تو مال کس کا لگا اور ان دونوں چیزوں کا اہتمام خدا نے کن پستیوں اور خاندانوں سے کیا
محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت مطابق12/17 ربیع الاول عام الفیل (وہ سال جس میں ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبہ کو منہدم کرنے آیا تھا) بمطابق 570ء کو اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد ہوئی۔ آپ کا محل ولادت مکہ اور بعض مآخذ میں شعب ابی طالب میں محمد بن یوسف کا گھر مذکور ہے عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے عالمین کی جانب بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلئے دنیا میں بھیجا۔

نبی اکرم کی مادر گرامی جناب آمنہ کی زبانی روایت ہے کہ " جب میرا بیٹا دنیا میں آیا میں نے ایک غیبی آواز سنی ، منادی کہہ رہا تھا : مشرق سے مغرب تک گھوم کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مثل تلاش کرو ، ان کے جیسا کون ہوسکتا ہے ، تمام انبیاء کے صفات ہم نے ان کو عطا کردئے ہیں ، آدم(ع) کی طرح صفا و پاکیزگی ، نوح(ع) کی طرح نرمی و سادگی، ابراہیم علیہ السلام کی طرح حلت و محبت ، اسمعیل (‏ع) کی طرح رضا و خوشنودی ، یوسف (ع) کی طرح حسن و زیبائی اور عیسی علیہ السلام کی طرح کرامت و بزرگواری ، سب کچھ ان میں موجود ہے

آپ کے والد ماجد عبداللہ جو کہ قبیلہ بنی زہرہ کے زعیم (وہب) کی دختر آمنہ بنت وہب کو بیاہ لینے کے چند ماہ بعد شام کے ایک کاروباری دورے سے واپس آتے ہوئے یثرب میں انتقال کرگئے۔
شیرخوارگی کا زمانہ بنی سعد میں گزرا پھر اپنی عمرکے چوتھے یا پانچویں سال اپنی والدہ کے پاس لوٹے، چھ سال کے ہوئے تو والدہ کا انتقال ہو گیا۔ دادا عبدالمطلب نے اپنی کفالت میں لے لیا اور ان کی پرورش میں کوئی دقیق کمی نہ کی دو سال تک آپؐ ان کی کفالت میں رہے پھر ان کا انتقال ہو گیا لیکن دادا نے اپنی وفات سے پہلے آپ کی پرورش و سرپرستی کی ذمہ داری آپؐ کے شفیق چچا حضرت ابوطالب ؐ کے سپرد کر دی تھی چچا ابو طالب اور ان کی زوجہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت اسد(س) محمدؐ سے دلی محبت کرتے تھے۔ یہ دو بزرگوار آپؐ کی پرورش اور آپ کی ضروریات پوری کرنے میں بہت زیادہ کوشاں تھے اور آپ کو اپنی اولاد پر مقدم رکھتے تھے؛ یہاں تک کہ محمدؐ ابو طالب کی زوجہ اور امام علی علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد کو ماں سمجھتے تھے اور جب انھوں نے وفات پائی تو آپؐ نے فرمایا: "آج میں اپنی ماں کے سائے سے محروم ہو گیا ہوں"۔
منقول ہے کہ ابو طالبؑ کے گھر میں آپ کی زوجۂ مکرمہ، فاطمہ بنت اسد محمدؐ سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں یہاں تک کہ جب فاطمہ بنت اسد انتقال کر گئیں تو رسول اللہؐ نے فرمایا "آج میری ماں چل بسیں"۔ اور انہیں اپنا کرتا کفن کے عنوان سے پہنایا، ان کی قبر میں اترے، ان کی لحد میں لیٹ گئے اور جب آپ سے عرض کیا گیا کہ "اے رسول خدا! آپ فاطمہ کے لئے سخت بے چین ہوگئے ہیں" تو آپ نے فرمایا: "حقیقتاً وہ میری ماں تھیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کو بھوکا رکھتی تھیں لیکن مجھے کھانا کھلاتی اور انہیں گرد و غبار میں اٹا ہوا چھوڑ دیتی تھیں لیکن مجھے نہلا دھلا کر آراستہ کر دیتی تھیں، بے شک وہ میری ماں تھیں"
نبی بچپن میں بھی نبی ھوتا ماننے والوں عطر اور دین فروشو بنی کے ہی یہ جملے تمھارے لیے دعوت فکر ھیں
بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ دوران سفر بحیرا نامی راہب سے ملاقات ہوئی۔ بحیرا نے آپؐ کو پہچان لیا اور ابوطالبؑ سے کہا: دیکھو! ان کے سلسلہ میں خبردار رہنا کیونکہ یہودی انہیں قتل کرنا چاہیں گے۔

بائیس سال کے ہوئے تو معاہدۂ حلف الفضول میں شریک ہوئے آنحضرتؐ اپنے اس اقدام پر فخر کیا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ کے مال سے تجارت کے لئے شام کا سفر کیا، پچیس سال کی عمر میں جناب خدیجہ سے عقد کیا اس سے قبل آپ صادق و امین کے لقب سے شہرت پا چکے تھے، چنانچہ جن قبیلوں میں حجر اسود کو نصب کرنے کے سلسلہ میں نزاع و جھگڑا تھا انہوں نے حجر اسود کو نصب کرنے کے لئے آپ کو منتخب کیا تاکہ کسی قبیلے کو اعتراض نہ ہو۔ پس آپ ؐنے ایک انوکھا اور عمدہ طریقہ کا ر اپنایا جس سے تمام قبیلے خوش ہو گئے۔ (جاری ھے )
التماس دعا ۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

منزل بہ منزل کربلا قسط۔ 10

منزل بہ منزل کربلا قسط۔ 10

 

" مقام ذوحسم" پر ابا عبد اللہ حسینؑ کا خطاب اور اصحاب باوفا کا جواب

 

"مقام ذوحسم " پر خامس ال عبا ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام نے جب دیکھا کہ دنیا اپنی پیٹھ دکھا چکی ہے. اور لوگ بیعت شکنی کرچکے ہیں تو آپؑ نے یہاں سے کوچ کرنے سے قبل ایک ایسا بلیغ و انقلابی خطبہ دیا .جس سے حرم رسول اللہ و اصحاب باوفا پر واضح ہو گیا کہ زینت دوش نبی حسین ابن علیؑ کا اب آگے کا کیا ارادہ ھے۔۔۔۔۔۔

عقبہ بن ابی العیزاز راوی ہیں کہ

آپؑ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا

" اما بعد. اے میرے ہمراہیو! حالات تم بخوبی دیکھ رہے ہو کہ کس نہج پر پہنچ چکے ہیں. بیشک دنیا اپنا رخ ہم سے پھر چکی ہے. اور زمانہ ہم سے روٹھ گیا ہے، ہم سے دنیا کی راحتوں اور آسانیوں نے منہ پھیر لیا ہے.

پس اب ہمارے پاس راحت دنیا میں سے اتنا ہی رہ گیا ہے گویا پانی کے ایک گھونٹ کے برابر .

یا اس چارے کے بمقدار جو کسی چوپاۓ کے چرنے کے لیے کافی ہو۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا اور باطل سے روکا نہیں جارہا. پس جب ایسے حالات ہوں تو مومن کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات میں رغبت دکھائے. بلاشبہ

میں موت کو شہادت کے سوا پسند نہیں کروں گا اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا ذلت تصور کرتا ہوں "

" راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر زہیر بن قین کھڑے ہوے اور اصحاب سے کہا کہ تم بولتے ہو یا میں بولوں ؟

سب نے کہا آپ ہی ہماری طرف سے بیان کریں پس زہیر نے حمد و ثنا بیان کی پھر کہا. یابن رسول اللہ !صلی اللہ علیہ والہ وسلم!

ہم نے آپؑ کی بات سنی. اللہ آپؑ کے امر کی اصلاح کرے. اللہ کی قسم !

اگر یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی ہوتی اور ہم اس میں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوتے. تب بھی ہم اپنی جانیں آپؑ کی مدد و نصرت و یاوری میں ضرور قربان کرتے. اور اس دنیا کی زندگی کو ترک کر دیتے"

یہاں امام حسینؑ نے زہیر و اصحاب کے حق میں دعائے خیر کی.

پھر حسینؑ کے باوفا صحابی نافع بن ہلال کھڑے ہوئے اور کہا.

" اللہ کی قسم!

ہمیں اپنے رب سے ملاقات میں کوئی کراہت محسوس نہیں ہوتی. ہماری اس سے جنگ ہو گی جس سے آپ کی جنگ ہے. اور ہماری اس سے صلح ہے جس سے آپ کی صلح ہو گی۔۔۔۔۔۔"

پھر قاری کوفہ جناب بریر بن خضیر کھڑے ہوئے اور کہا

" اے فرزند رسولؑ ! اللہ کی قسم!

یہ اللہ کا ہم پر احسان ہے کہ ہم اپنی جانیں آپؑ پر قربان کریں اور ہمارے اعضاء وجوارح آپؑ کی نصرت میں قطع ہوں. پھر ہم قیامت کو آپؑ کے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوں اور وہ ہمارے شفیع بنیں"

" راوی بیان کرتا ہے کہ حر بن یزید ریاحی مسلسل حسینؑ کو سمجھا رہے تھے کہ وہ اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈالیں. لیکن حسینؑ نے حر سے فرمایا

" کیا تم مجھے موت سے ڈراتے ہو؟

پھر ایک شعر ارشاد کیا جس کا ترجمہ یہ ہے.

" بیشک میں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے اور موت میں جوان مردوں کے لیے کوئی عار نہیں ہے. جب وہ حق کے ساتھ ہوں . اور صالحین کی اقتداء میں ہو.

پس اگر میں زندہ بچ گیا تو مجھے اپنی زندگی پر ندامت نہیں ہو گی اور اگر میں مارا گیا تو میرے قاتلوں کو ذلت و رسوائی نصیب ہوگی"

راوی کہتا ہے کہ

حسینؑ کی یہ باتیں سن کر حر آپؑ سے کچھ دور کھڑا ہوا. اور فاصلہ رکھ کر حسینؑ کے ساتھ چلنے لگا. یہاں تک کہ قافلہ صبر و رضا مقام " عذیب الہجانات " پر پہنچا.۔۔۔۔۔۔۔

اس منزل پر عبرت کا ایک قصہ ہے وہ آئندہ پوسٹ میں بیان کروں گآ.

تب تک اس حقیر و عاصی کو اجازت دیجیے اور دعاوں میں نہ بھولیے. حسینؑ اور ان کے نانا و بابا اور بھائی حسن مجتبیؑ آپ سب مومنین کے وارث بنیں آمین

 

حواله جات.

 

(1) الارشاد 208-

( 2) اللهوف 70-

( 3) تاریخ طبری 7/301

( 4) نفس المهموم. 173-174.

(5) مقتل الحسین الخوارزمی.

(6) مقتل المقرم

(7) ملحمة الحسینة. ایت الله الشهید مطهری.

 

التماس دعا ...... اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

منزل بہ منزل کربلا قسط 9

منزل بہ منزل کربلا قسط 9

 

مقام " ذوحسم" پر قافلہ صبر و رضا کا قیام

(حر بن یزید ریاحی سے ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی گفتگو )

کل کی پوسٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس مقام پر حسین بن علیؑ نے حر کی فوج پر حجت تمام کی. اور کوفیوں کے خطوط پیش کیے. لیکن حر نے کسی بھی خط سے لا علمی کا اظہار کیا. اور مصر رہا کہ وہ آپؑ کو ابن زیاد کے پاس لے جا کر ہی رہے گا. مگر حسینؑ نے ان سے فرمایا

" مگر شاید تمہاری موت تمہیں اس کی مہلت نہ دے" یہ کہ کر آپؑ نے اپنی فوج کو چلنے کا حکم دے دیا.

مگر اس دوران آپؑ کچھ دیر کے لئے خود رکے رہے جب تک مخدرات عصمت و طہارت سوار نہیں ہوئیں. پھر آپ بھی ذوالجناح پر سوار ہوئے

جب آپؑ نے چلنے کی کوشش کی تو حر کی قیادت میں فوجیوں نے آپؑ کا راستہ روکا. اور آپؑ کی پیش قدمی میں حائل ہوگئے.

یہ دیکھ کر حسینؑ ، حر سے بولے

" تمہاری ماں تمہاری غم میں روئے تو کیا چاہتا ہے" ؟

حر نے یہ سنا تو کہنے لگا اگر عربوں میں آپ کے علاوہ کوئی اور میری ماں کا نام لے لیتا چاہے وہ کوئی بھی ہوتا تو میں بھی اس سے کہتا کہ تمہاری ماں بھی تمہارے غم میں بیٹھے.

لیکن اللہ کی قسم !

میں آپؑ کی ماں کا ذکر انتہائی احترام و عزت کے بغیر نہیں لے سکتا.

تو حسینؑ بولے

" تم کیا چاہتے ہو؟"

تو حر نے جواب دیا

" میں آپؑ کو امیر ابن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا ہوں

پس یہ سن کر حسینؑ نے فرمایا

"اللہ کی قسم ہے اگر ایسی بات ہے تو میں تمہاری اتباع ہرگز نہیں کروں گا"

تو حر نے کہا

" واللہ میں بھی آپ کا راستہ نہیں چھوڑوں گا"

راوی بیان کرتا ہے

اس جملے کی تین یا اس سے زائد بار حسینؑ اور حر میں تکرار ہوئی

جب یہ بحث و مباحثہ بڑھا تو حر نے کہا.

مجھے آپ سے جنگ کا حکم نہیں ہے لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ آپ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک آپ کو کوفہ نہ پہنچا دیا جاے ۔

لہذا اگر آپ نہیں چاہتے کہ ابن زیاد کے پاس جائیں تو ایسا راستہ اختیار کریں جو نہ کوفہ کی طرف جاتا ہو اور نہ ہی مدینہ کی طرف جاتا ہو جب تک ابن زیاد کو میں خط کے ذریعے آگاہ نہیں کرتا کہ مجھے کیا کرنا ہوگا.

یا آپ ابن زیاد یا یزید کو خط لکھیں. اس طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کو ایسا جواب دیں کہ میں عافیت سے رہوں اور آپ کے متعلق آزمائش سے بچ جاؤں . یا اصلاح احوال کی کوئی راہ نکل آئے۔ آپ اسی حل کو اختیار کیجیے

یہ کہ کر اس نے آپ کو بائیں جانب کا اشارہ کیا جو " عذیب الہجانات " اور " قادسیہ" کی طرف نکلتا تھا.

پس حسینؑ اس راستے پر اپنے اصحاب و اہل بیت کے ہمراہ چلے اور حر کا لشکر بھی آپؑ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا.

یہاں تک کہ آپؑ مقام "البیضہ " کے پاس پہنچے .

یہاں آپ نے اپنے اصحاب اور اصحاب حر سے خطاب کیا " الطبری بحوالہ ابو مخنف عقبہ بن ابی العیزاز کی زبانی روایت کرتے ہیں کہ

یہاں حسینؑ کھڑے ہوئے اللہ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا

" ایہا الناس!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے جو اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرے. اللہ سے کیے گئے پیمان کو توڑ ڈالے. اور اللہ کے بندوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کے برخلاف سلوک کرے. اور ظلم و جور سے کام لے. اور کوئی اسے قول و فعل سے اس کام سے نہ روکے

پس اللہ پر یہ لازم ہے کہ ایسے شخص کو وہاں داخل کرے جہاں اللہ اس ظالم کو داخل کریگا. (جہنم کی طرف اشارہ فرمایا ہے)

یاد رکھو! اس گروہ نے شیطان کی اطاعت خود پر لازم کرلی ہے.اور رحمان کی اطاعت سے دستبردار ہوئے ہیں .انہوں نے فساد کو ہوا دی ہے اور اللہ کے قوانین کو معطل کیا ہے. اور مال خدا پر قبضہ کرلیا ہے. اللہ کے حلال کو حرام اور اسکے حرام کو حلال کردیا ہے. میں غیروں سے زیادہ اس امر کا اہل و حقدار ہوں .مجھ تک تمہارے خطوط پہنچے اور تمہارے قاصد آے. جنہوں نے مجھے یہ پیغام دیا کہ تم مجھے تنہا نہ چھوڑو گے اور میری بیعت نہ توڑو گے.

بلاشبہ اگر تم میری بیعت کو پورا کرتے ہو تو تمہیں ہدایت ملے گی میں حسین ابن علیؑ ہوں فاطمہ الزہرا بنت رسول اللہ ص کا فرزند ہوں

میری جان تمہاری جانوں کے ساتھ ہے اور میرے گھر والے تمہارے گھر والوں کے ساتھ ہیں. تمہارے لیے میری اتباع میں ایک مثال موجود ہے.

لیکن اگر تم میری بیعت اپنی گردنوں سے اتار دیتے ہو اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہو تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ

یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہو گی . تم سے یہی توقع ہے کیونکہ تم نے ایسا ہی میرے والد بزرگوار اور بھائی حسن مجتبیؑ اور میرے چچازاد مسلم بن عقیلؑ کے ساتھ کیا ہے.

پس جو بیعت شکنی کرتا ہے وہ اپنا نقصان خود کرتا ہے. تم نے اپنی مقدر تاریک کردی ہے. وہ شخص جو تم پر اعتبار کرے وہ خود کو فریب دیتا ہے. میری فکر نہ کرو. عنقریب اللہ عزوجل مجھے تم لوگوں سے بے نیاز کردے گا.

 

بحوالہ

 

(1) الارشاد 207/208

( 2) تاریخ طبری 7/300

(3) نفس المہموم . 171/172 )

 

التماس دعا..... اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

منزل بہ منزل کربلا قسط 8

منزل بہ منزل کربلا قسط 8

 

( قافلہ صبر و رضا مقام "

 

ذوحسم" پر قیام . عبرت آمیز دروس ) **

 

عقبہ البطن کے بعد حسینؑ بمع قافلہ صبر و رضا "ذوحسم " کے مقام پر پہنچے. ساقی کوثر کے فرزند نے یہاں دشمنوں کو ان کے جانوروں سمیت سیراب کرکے عظیم الہی اخلاق کا مظاہرہ کیا.

اس پر تبصرہ ہم اہل دل پر چھوڑتے ہیں کہ وہ حسینؑ جن کے ہمراہ چھوٹے بچے اور خواتین سفر کررہے ھوں اور جنہیں اس پانی کی خود اشد ضرورت پڑ سکتی ھے۔

مگر اس کریمؑ نے اپنے دشمنوں تک کو پیاسا دیکھنا گوارا نہ کیا

ذوحسم پر ہم اپنے محترم قارئین کو تین اقساط کے لئیے روکیں گے

علی ابن الطعان المحاربی کہتے ہیں کہ

میں بھی حر کی فوج کا سپاہی تھا. جب مجھے ڈہال کے ذریعے پانی پینے کا طریقہ نہ آیا تو حسینؑ نے کہا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے !

( عزت افزائی کیلیے عربوں میں کسی کو چچا کا بیٹا کہا جاتا ہے )

ڈہال کو تھوڑا سا ترچھا کرلو. پھر پانی پی لو. لیکن میں یہ طریقہ بھی جب نہ سمجھ پایا تو حسینؑ خود آئے اور ڈہال کو ترچھا کرکے مجھے اور میری سواری کو سیراب کیا۔

روای بیان کرتا ھے کہ

حر کا دستہ قافلہ حسینی کو روکنے کیلیے قادسیہ کی جانب سے داخل ہوا. قادسیہ کے مقام پر حصین بن نمیر ملعون کئی ھزار فوجوں کے ساتھ متعین تھا تاکہ حسینؑ کو کوفہ داخل ہونے سے روکا جا سکے.

قادسیہ سے حر کی سرکردگی میں ایک ہزار کی سپاہ حسین۔ع۔ کو گھیر کر ابن زیاد کے پاس لے جانے کی غرض سے بھیجی گئی تھی جن کا حسینؑ سے سامنا ذی حسم کے مقام پر ہوا.

روای کہتا ہے کہ جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو حسینؑ نے اپنے باوفا صحابی "حجاج بن مسروق" بعضوں نے "حجاج بن مسرور" لکھا ہے کو اذان دینے کا حکم دیا .یہ حسینؑ کے موذن تھے.

پس جب نماز کا وقت ہوا تو حسینؑ نعلین پہنے برآمد ہوئے آپؑ نے قمیض کے اوپر چادر اوڑھ رکھی تھی. نماز سے قبل آپؑ نے سب سے خطاب کیا اور اتمام حجت فرمائی آپؑ نے پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا

" اے لوگو! بیشک میں تمہاری جانب اس وقت تک نہیں نکلا ہوں جب تک تمہارے خطوط مجھ تک نہ پہنچے جس میں تم لوگوں نے مجھے لکھا تھا کہ تمہیں ایک امام و رہبر کی ضرورت ہے.جو تمہیں حق و ہدایت پر جمع کرے. پس اگر تم اس عہد پر باقی ہو جو تم نے مجھ سے ان خطوط میں کیا ہے تو مجھ سے پیمان کرو اور ساتھ دینے کا وعدہ کرو. تاکہ مجھے تمہاری باتوں پر اعتبار آ جاے.

اور اگر تم پلٹ چکے ہو اور ایسا نہیں کرنا چاہتے اور میری آمد سے ناخوش ہو تو پھر میں اس جگہ واپس چلا جاتا ہوں جہاں سے آیا ہوں "

مقتل کی کتب میں لکھا ہے کہ خامس ال عبا کی یہ بات سن کر وہاں موجود سب حاضرین پر سکوت طاری ہو گیا. پس کوئی بھی کچھ نہ بولا.

پھر آپؑ نے موذن کو اقامت دینے کا حکم دیا. اور جماعت کھڑی ہوگئی تو آپؑ نے حر سے فرمایا کہ

کیا تم اپنی فوج کو نماز خود پڑھاؤ گے؟

حر نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم سب آپ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔

سب نے آپؑ کی اقتداء میں نماز ادا کی. نماز کے بعد ہر کسی نے اپنی سواری کا لگام تھاما اور اپنی سواریوں کے ساۓ میں آرام کرنے لگے.

عصر کے وقت حسینؑ نے اپنے اصحاب کو کوچ کی تیاری کا حکم دیا. البتہ سفر سے قبل آپؑ نے عصر کی نماز ادا فرمائی. اور سب نے دوبارہ آپؑ کے پیچھے نماز ادا کی.

نماز کے بعد آپؑ نے خطبہ دیا. جس میں اللہ کی حمدو ثناء بیان کی پھر فرمایا

" لوگو!

اگر تم اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کے بعد حق اور اسکے اہل کی معرفت حاصل کرو تو یہ چیز تمہارے رب کی سب سے زیادہ تم پر خوشی کا باعث ہوگا

ہم اہل بیت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں . اور اس امر کا ان لوگوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ حقدار ہیں جو اس کا دعوی کررہے ہیں

یہ لوگ تم پر ظلم و جور سے مسلط ہیں. تم نے ہمارا صرف اس لیے انکار کیا ہے کیونکہ تم ہمارے حق کی بابت معرفت نہیں رکھتے ہو اور ہمارے حق سے جاہل ہو . اور ہمیں پسند نہیں کرتے. یہاں تک میں صرف تمہارے ان خطوط کی وجہ سے آیا ہوں جو تم نے بھیجے تھے.

اور اگر تمہیں میرا آنا نا منظور ہے تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاتا ہوں

یہ سن کر حر نے کہا

اے آبا عبد اللہ !

واللہ مجھے ان خطوط کا کچھ علم نہیں ہے جن کا آپؑ ذکر کرتے ہیں. یہ سن کر حسینؑ نے اپنے صحابی عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ وہ دو تھیلیاں کھولی جائیں جن میں اہل کوفہ کے خطوط بھرے ہوئے تھے.

پس جب یہ خطوط حر کے سامنے رکھے گیے تو وہ بولے. ہم ان لوگوں میں شامل نہ تھے جنہوں نے آپؑ کو یہ خطوط لکھے تھے.

ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ آپؑ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک آپؑ کو ابن زیاد کے سامنے پیش نہ کیا جاے. یہ سن کر آپ نے حر سے فرمایا

موت تم سے اس سے کہیں زیادہ قریب ہے کہ تم ایسا کرسکو".

 

حوالہ جات.

(1) نفس المہموم 170-171.

(2) تاریخ طبری 7/ 295

(3) الارشاد للشیخ المفید علیہ الرحمہ 206

(4) مقتل الحسین للخوارزمی

(5) مقتل الحسین للمقرم .

(6) صحیفہ کربلا.

( 7) اللہوف .

 

التماس دعا ....... اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

منزل بہ منزل کربلا قسط 7

منزل بہ منزل کربلا قسط 7

 

( قافلہ صبر و رضا کی مقام عقبہ البطن پر آمد )

 

الشیخ ابو القاسم جعفر بن محمد قولویہ قمی علیہ الرحمہ امام صادق علیہ السلام کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا.

جب حسینؑ مقام " بطن العقبہ" کی وادی پر چڑھے تو ایک دفعہ اپنے اصحاب باصفا و باوفا سے فرمایا

" واللہ میں اپنے آپ کو صرف مقتول دیکھتا ہوں "

اصحاب نے عرض کیا

اے ابا عبد اللہ ! یہ آپؑ کیسے فرمارھے ہیں ؟

تو آپؑ نے فرمایا.

" میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ چند کتے مجھے زخمی کررہے ہیں اور ان میں ایک برص زدہ کتا ہے جو مجھ پر سب سے زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے " ( یاد رہے کہ شمر بن ذی الجوشن لعین مبروص تھا)

اس کے بعد آپ اگے بڑھے اور مقام " شراف " پہنچے۔

جہاں آپؑ نے صبح کے وقت اصحاب کو حکم دیا کہ مشکیزوں میں پانی ذخیرہ کرلیا جاے

" شراف" سے آپؑ آدھا دن گذرنے کے بعد آگے بڑھے اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے ایک نے تکبیر کہی

تو مولاؑ نے فرمایا بیشک اللہ ہی اکبر ہے. لیکن اس وقت تکبیر کہنے کی کیا خاص وجہ ہے ؟

تو اس نے کہا

" گویا میں سامنے کھجور کے درختوں کا ایک جنگل دیکھ رہا ہوں "

یہ سنا تو دیگر اصحاب بھی کہنے لگے

" واللہ ہم نے یہاں کبھی بھی اس سے قبل کہجور کا کوئی درخت نہیں دیکھا تھا "

پس مظلوم کربلا نے پوچھا کہ پھر تمہاری کیا رائے ہے اور یہ کیا ہوسکتا ہے؟

تو اصحاب نے جواب دیا.

اے فرزند رسول ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم.

یہ دور سے ہمیں کھجور کے درختوں کی مانند نظر آنے والا منظر دراصل گھوڑوں کے کان ہیں اور یہ ایک بڑا لشکر ہے"

پس حسینؑ بولے

" واللہ میں بھی وہی دیکھتا ہوں جو تم دیکھتے ہو.

بعض کتب مقتل میں لکھا ہے کہ یہ مقام " ذوحسم " تھا۔جہاں قافلہ صبر و رضا نے اس لشکر کو دیکھا.

پس مولا نے اصحاب سے فرمایا کہ ان سے بچ کر چلنے کیلیے اس سے زیادہ مناسب نہیں دکھائی دیتا کہ ہم اس لشکر کو اپنی پیٹھ کی طرف رکھیں یہاں تک کہ وہ منزل آجائے کہ وہ ہمارے سامنے آ جائیں.

پس حسینی قافلے نے بائیں طرف کا رستہ اختیار کیا اور چل پڑا.

کوئی زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ اچانک گھوڑوں کی گردنیں واضح ہونا شروع ہوئیں.

اصحاب حسینی نے انہیں دیکہ کر بحکم امام راستہ بدلنے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی راستہ بدلا

انکے پرچم پرندوں کے پروں کی مانند ہوا میں پھڑ پھڑا رہے تھے.

مقام ذی حسم پر حسینی قافلہ ان سے قبل وارد ہوا. اور یہاں حسینؑ نے خیمے نصب کرنے کا حکم دیا.

اس دوران وہ لشکر بھی ان وارد ہوا جس کی سرکردگی حر بن یزید ریاحی کر رھا تھا اور یہ ہزار افراد پر مشتمل گھڑ سوار دستہ تھا.

یہ دوپہر کا وقت تھا. گرمی زوروں پر تھی.حر کی فوج کا پیاس سے برا عالم تھا. شدت پیاس سے ان کے گھوڑوں کی زبانیں باہر نکلی تھیں. انکی تلواریں انکے کندہوں پر تھیں. پس حسینؑ نے ان کی پیاس دیکھ کر اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ حر اور اسکے سپاہیوں کو پانی پلایا جائے

یہ سن کر اصحاب حسینی آگے بڑھے اپنی ڈہالوں میں پانی بھر بھر کر حر اور اس کی لشکر کو سیراب کیا.

کتب مقتل میں ذوحسم کے مقام پر کافی عبرت و درس کے مقامات منقول ہیں ان شا اللہ اگلی پوسٹ میں ان پر مختصر بات ہوگی.

 

حواله جات.

(1) نفس المهموم 168- 169.

(2) کامل الزیارات 75

(3) الارشاد 206

(4) اللهوف فی قتلی الطفوف.

(5) مقتل الحسین الخوارزمی.

 

التماس دعا ....... اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

آخرين نوشته ها

دسته بندي ها

جستجو

لينک هاي روزانه

آرشيو

برچسب ها

لينک دوستان

پاسداران حریم ولایت

منزل بہ منزل کربلا قسط 6

منزل بہ منزل کربلا قسط 6

 

( مقام" ثعلبیہ" پر مسلمؑ کی شہادت کی اطلاع. قافلہ صبر و رضا کی عظیم استقامت)

عبد اللہ بن سلیمان اور منذر بن المشعل راوی ہیں کہ

جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہماری پہلی کوشش یہی تھی کہ کسی بھی طرح حسینی قافلے سے جا ملیں تاکہ دیکھیں کہ حسینؑ کیا فیصلہ کرچکے ہیں

یہاں تک کہ ہم نے مقام" زرود" پر حسینی قافلے کو دیکھا۔ اسی دوران ہم نے کوفہ کی جانب سے ایک شخص کو آتے دیکھا .مگر اس نے حسینؑ کے قافلے کو دیکھا تو اپنا راستہ الگ کرلیا مبادا ایسا نہ ہو کہ اسے آپؑ کی مدد کرنا پڑے

 

امام حسینؑ اسے دیکھ کر رک گئے تھے گویا اس سے کوفہ کے حالات معلوم کرنا چاہتے ہوں

لیکن جب آپؑ نے محسوس کیا کہ وہ ملنے سے کترا رہا ہے تو آپؑ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے

ہم اس شخص کے پاس گئے اور سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا کس قبیلے سے ہو ؟

ھم نے کہا ہمارا بنی اسد سے تعلق ہے. اور اپنا تعارف کرایا. پھر اس نے بھی اپنا تعارف کرایا اور اپنا نام "بکر" بتایا اور اپنے قبیلے کا نام بتایا.

ہم نے اس سے کوفہ کے حالات دریافت کیے تو اس نے کہا کہ جب میں کوفہ سے نکلا تھا تو اس دوران مسلم و ہانی قتل کئے جا چکے تھے ، اور ان کی لاشیں بازار کوفہ میں گھسیٹی جارہی تھیں

یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے اس سے یہ خبر سنی تو ہم حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوے اور کہا کہ ہمارے پاس آپؑ کے لیے ایک خبر ہے اگر چاہیں تو سب کے سامنے بتا دیں ورنہ آپؑ کو تنہائی میں بتا دیں

آپؑ نے فرمایا کہ میرے اصحاب سے میرا کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے. جو بھی بات ہے ان سب کے سامنے بتا دو

بعض روایتوں میں لکھا ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ

" میں اپنے ساتھیوں سے کوئی بات مخفی نہیں رکھتا تم ان کے سامنے سب کچھ کہ سکتے ہو"

پس یہ سن کر ہم نے کہا کہ دوپہر کے وقت جس شخص نے آپ ؑکو دیکھ کر راستہ بدل لیا تھا وہ اہل کوفہ کے سچ بولنے اور صاحبان عقل و راۓ میں سے ایک تھے۔

اس نے ہمیں خبر دی تھی کہ جب وہ کوفہ سے نکلا تھا تو مسلم و ہانی شہید کیے جا چکے تھے اور ان کی لاشیں بازاروں اور گلیوں میں گھسیٹی جارہی تھیں

 

پس یہ سن کر آپؑ نے بآواز بلند "انا للہ وانا الیہ راجعون " پڑھا اور فرمایا

"اللہ ان دونوں پر رحمت کرے"

یہ دونوں راوی کہتے ہیں

کہ ہم نے آپؑ کی منت سماجت کی اور باصرار عرض کیا

" اے فرزند رسولؑ!

کوفہ میں آپؑ کا کوئی حامی و مددگار نہیں .آپؑ کوفہ کا رخ نہ کیجیے

" تو آپؑ نے "آل عقیل " کی طرف دیکھا اور ان سے فرمایا " مسلم قتل ہو چکے ہیں اب تمہاری کیا راۓ ہے"

ان سب نے جواب دیا

" واللہ ہم ہرگز واپس نہ جائیں گے جب تک ہم مسلمؑ کی طرح شہید نہ ہوں یا ہم مسلمؑ کا بدلہ نہ لیں"

راوی کہتا ہے یہ سن کر حسینؑ نے کہا کہ

" مجھے ان لوگوں کے بعد زندہ رہنے میں کوئی بھلائی دکھائی نہیں دیتی"

راوی بیان کرتا ہے کہ قتل مسلمؑ کی خبر حسینؑ کو مقام " زرود " سے نکلنے کے بعد مقام " ثعلبیہ" پر ملی یہاں کوفہ سے آنے والے ایک اور شخص "اباهرة الازدی " نامی سے آپؑ کی ملاقات ہوئی اس نے آپؑ کو سلام کیا پھر سرزنش کرنا شروع کیا کہ آپؑ کو کس شے نے حرم خدا اور اپنے جد کے شہر کو چھوڑنے پر مجبور کیا ؟

پس آپؑ نے فرمایا

" افسوس ہے اے ابا ہرہ !

بنو امیہ نے ہمارا مال چھینا ہم نے صبر کیا. ہم پر سب و شتم کیا میں نے صبر کیا. اب وہ حرم اللہ و حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں میرا خون بہانا چاہتے تھے لہذا میں وہاں سے نکلا.

اللہ کی قسم!

مجھے قتل کرنے کے بعد اللہ ان پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا. ان پر باغی گروہ کو مسلط کردے گا. اور ذلیلوں کو ان کا حاکم بناۓ گا جو ان کے مال و جان میں ان پر حکومت کریں گے "

شیخ کلینی بیان کرتے ہیں کہ "ثعلبیہ کے مقام پر ایک کوفی آپؑ سے ملا .تعارف ہونے کے بعد آپؑ نے اس سے فرمایا

اے کوفی بھائی !

واللہ اگر تم مدینہ میں مجھ سے ملتے تو تمہیں جبرئیل ۔ع کے ہمارے جد ۔ص۔ کے پاس وحی کی خاطر آمد اور گھر آمد و رفت کی نشانیاں دکھلاتے.

پس جب مقام " زبالہ" پہنچے تو ایک مظلومانہ خطبہ دیا جسے اگلے پوسٹ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاۓ گا

 

( السلام علیک یا ابا عبد الله الحسین

حوالہ جات

.(1) الارشاد 204-205

( 2) اللہوف فی قتلے الطفوف. 62

(3) الکافی 1/398

 

التماس دعا .......اے ایس امجد

All Rights Reserved 2015-2018 ©

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: 1405/4/22 ساعت: 12:56

صفحه بندی