شہید جنرل سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟
تحریر: سید جواد حسین رضوی
کل علی الصبح سپاہ پاسداران کے جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی حشد الشعبی کے ابو مہدی المہندس امریکی حملے میں شہید ہو گئے۔ اس واقعے نے جہاں عالم اسلام کو یکلخت بیدار کیا اور دنیا اس واقعے کے بعد پیش آنے والے متوقع رد عمل کے متعلق تبادلۂ خیال کر رہے تھے، وہیں کچھ پاکستانی مومنین یہ سوال کرتے نظر آئے کہ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے۔ بقول شاعر؛
کچھ سوال اب دل معصوم عجب پوچھے ہے
گویا ہمارے یہ مومنین اس سانحے کے بعد خواب غفلت سے بیدار ہوئے، حالانکہ قاسم سلیمانی کم و بیش سن 2014 سے اعلانیہ عراقی فوج اور حکومت کے ساتھ داعش جیسی عفریت سے مقابلہ کرنے کے لئے موجود رہے ہیں، تب کسی نے نہیں پوچھا کہ ایرانی جنرل وہاں کیا کر رہا تھا۔ یہ شاید حالات سے عدم واقفیت یا تجاہل عارفانہ کی علامت ہے۔
آئيے ہم آپ کو اس کا پس منظر بتاتے ہیں۔ جون 2014 میں شام میں استعمار کی حمایت سے پیدا ہونے والے گروہ "دولت اسلامیہ عراق و شام" المعروف بہ داعش نے عراق کی سرزمین پر حملے شروع کئے۔ امریکی جس نے عراق پر قبضہ جمایا ہوا تھا، ان حملوں سے قبل مختلف بہانوں سے عراق میں اپنی افواج کی تعداد کم کر چکی تھی۔ عراقی فوج داعش کا مقابلہ نہ کر سکی اور شمالی عراق بشمول موصل اور تکریت جیسے اہم شہروں پر داعش کا قبضہ ہوگیا۔ یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی کی علامت تھی۔ داعش آہستہ آہستہ دارالحکومت بغداد کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا، ایک وقت آیا جب یہ بغداد کے گرد و نواح تک بھی پہنچ گئے۔ داعش اس وقت تک دہشت کی علامت بن چکا تھا اور پوری دنیا میں اس کے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے سنسنی پھیل چکی تھی۔
ایسے موقع پر جب عراقی حکومت نے مکمل گھٹنے ٹیک دیے تو جنرل قاسم سلیمانی کا کردار شروع ہوتا ہے۔ عراقی حکومت جب داعش کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام رہی تو ایران سے درخواست کی کہ اس صورتحال میں ان کی مدد کی جائے۔ ایران مقامات مقدسہ کی حفاظت کے پیش نظر اس بات کے لئے راضی ہوا۔ آپ سب کو یاد ہو گا کہ سامراء میں امام نقی اور امام عسکری ع کے روضوں پر حملے ہوئے تھے، داعش بہت قریب پہنچ چکے تھے اور فوری عمل نہ کیا جاتا تو عراق مکمل طور پر داعش کے قبضے میں آ جاتا۔ انہی دنوں نیویارک ٹائمز، سنڈے ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل جیسے معتبر اخباروں میں یہ خبر سرورق کی زینت بنی کہ اب ایران عراقی فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے۔
انہی ایام میں عراق کے مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے جہاد کا فتوی دیا جس کے نتیجے میں عراقی ملیشیا "حشد الشعبی" کی بنیاد رکھی گئی جس میں عوام رضاکارانہ طور پر شریک ہوئی۔ نوجوانوں کو آلات و فنون حرب کی تربیت دی گئی۔ اس ملیشیا کی بنیاد میں جنرل قاسمی سمیت سپاہ پاسداران کے دیگر آفیسروں کا ایک کردار رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ سب عراقی حکومت کی ایماء پر ہوا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے عراق میں ایرانی ملیشیا بسیج کی مثال سامنے رکھی اور اسی کے طرز پر حشد الشعبی کی بنیاد رکھی ہے۔
حشد الشعبی مختلف گروپس کے مجموعے سے تشکیل پایا ہے جس میں بیشتر شیعہ ہیں جبکہ سنی، ایزدی اور عیسائی گروپس بھی اس میں شامل ہیں۔ حشد الشعبی نے ایران کی مدد سے داعش کو شکست فاش دی۔ سن 2015 میں عراقی پارلیمنٹ نے آئین میں ترمیم کر کے حشد الشعبی کو باقاعدہ عراقی فوج کا حصّہ بنایا۔ اس وقت حشد الشعبی کوعراق کی وزارت داخلہ کنٹرول کرتی ہے۔
عراق میں امریکی مفادات کو زک پہنچانے اور ایران کے واضح اثرات کی وجہ سے امریکہ کو حشد الشعبی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ کچھ دن قبل شام کی سرحد کے قریب حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر امریکہ نے حملہ کیا جس میں دسیوں شہید اور زخمی ہوئے۔ حشد الشعبی چونکہ عوامی ملیشیا ہے لہذا ہزاروں افراد نے بغداد میں امریکہ سفارت کے سامنے شہدا کی لاشوں کے ساتھ احتجاج کیا، جو ایک عظیم اجتماع میں بدل گیا۔ سفارتخانے پر عوام نے حملہ کیا لیکن امریکی سفیر سمیت دیگر ملازمین کو بحفاظت نکال لیا گیا لیکن امریکہ کا غم و غصّہ شدید تھا۔ صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایران ہے اور دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس کے چند روز بعد حشد الشعبی کے ماسٹر مائنڈ جنرل قاسم سلیمانی کو ابو مہدی المہندس سمیت شہید کر دیا گیا۔ گویا دو ممالک کے دو اہم افراد دونوں ممالک کی رضامندی سے ایک ساتھ موجود تھے، جس پر یہ سوال کہ وہ وہاں کیا کر رہے تھے، عبث ہے۔
والسّلام
9 جمادی الاوّل 1441 ہجری بوقت عشاء
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر