خرید بک لینک

درباره سایت

پاسداران حریم ولایت

آخرین مطالب

امکانات وب

پندرہ شعبان کی مناسبت سے اپ سب کو چشن امام زماں عج بہت مبارک ہو۔۔۔ہمارے وقت کا امام ہماری نظروں سے اوجھل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انکو ڈھونڈا جاے لیکن افسوس ہم ایسا نہیں کرتے ہیں۔۔۔عزیزان ہمیشہ ہم امام سے عیدی مانگتے ہیں لیکن اس سال 15 شعبان کو ہم مولا جان عج کو عیدی دیں آپ عج کے ظھور کی راہ ہموار کریں۔۔۔۔

اس زمانہ غیبت میں حضرت مہدی (عج) کے شیعوں کی ذمہ داریاں ہےیہ بحث عملی پہلو رکھتی ہے۔ ان فرائض پر عمل کرنے کی صورت میں اسلامی معاشرہ میں ایک عظیم تحول و تبدل ایجاد کیا جا سکتا ہے ۔لوگوں کی گمراہی اور جاہلیت کی موت سے نجات کا سبب بھی ہو سکتا ہے اسی وجہ سے اس کی اہمیت ہے کہ بعض دانشوروں نے اس سلسلہ میں بحث و تالیفات کا ارادہ و اہتمام کیا اور اس کے متعلق متعدد کتابیں تحریر کیں حتی اہل سنت حضرات اگرچہ ولادت حضرت مہدی(عج) اور اس زمانہ میں ان کے زندہ ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے اور ان کا عقیدہ محض یہ ہے کہ مہدی موعود آخری زمانہ میں اپنے ظہور سے پہلے پیدا ہوں گے بغیر اس کے کہ اُن کےلیے کو ئی غیبت ہو جیساکہ شیعہ امامی معتقد ہیں ،لیکن عین اسی حالت میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک معتبر منابع میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں کہ جن میں مسلمانوں کے فرائض و وظائف موجود حضرت مہدی ؑکے ظہورسے قبل بیان ہوئے ہیں لہذا یہ وظائف تمام مسلمانوں کے لئے بیان ہوئے ہیں نہ فقط کسی خاص مذہب کے لیے۔

ذیل میں ہم کچھ اہم وظائف کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
1۔ امام زمانہ ؑ کی پہچان و شناخت:

سب سے بڑا اور اہم وظیفہ کہ جس کی ذمہ داری تمام مؤمنین پر عائد ہوتی ہے امام زمانہ ؑ کی شناخت اور پہچان ہے کیونکہ جب تک امام ؑ کی حقیقی پہچان نہ ہو تو اس وقت تک دوسرے وظائف کو انجام دینا فضول اور بے کار ہو گا ،اگر ہم دوسرے وظائف کو انجام دیتے ہیں لیکن امام ؑ کی پہچان نہ ہو تو اس کی صورت اسی طرح ہے جس طرح کوئی شخص ہدف کے بغیر تیر پھینکتا ہے اور اگر مر گیا تو جاہلیت کی موت مرے گا جیساکہ حدیث شریف میں آیا ہے (من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة( ۱) لھذا ہم سب کو چاہیے کہ سب سے پہلے امام ؑ کی شناخت حاصل کریں تاکہ دوسرے اور وظائف اسی شناخت کی بناء پر بطور احسن انجام پائیں ۔اب جس شخص کو جتنی امام ؑ کی شناخت زیادہ ہو وہ اسی طرح دوسرے وظائف کو بھی اچھی طرح درک اور سمجھ سکتا ہے اور ان پر عمل پیرا ہو سکتا ہے یہاں پر ایک نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ جن لوگوں کو امام ؑ کی شناخت نہیں ہوتی یا ہوتی بھی ہے تو بہت کم اور وہ اپنے آپ کو امام ؑ کا پیروکار سمجھتے ہیں کبھی کبھی وہ ایسے شیطانی پھندوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں کہ جن سے نکلنا بہت دشوار ہو جاتا ہے اور پھر یہ سارے لوگ بھٹک جاتے ہیں جب بھی کوئی شخص جھوٹ بول کر امام زمانہ ہونے کا دعوی کرتا ہے تو ایسے لوگ کہ جن کو امام کی حقیقی شناخت نہیں ہوتی ہے وہ اس جھوٹے آدمی کے پیچھے نکلتے ہیں اور اسکی پیروی کرنے لگتے ہیں اور ہر جگہ پر اس قسم کے واقعات کبھی کبھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔اب اگر کسی شخص کو امام زمانہ ؑ کی حقیقی شناخت ہو تو وہ ایسے جھوٹے آدمی کے پیچھے نہیں جائے گا.

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: پنجشنبه 23 خرداد 1398 ساعت: 17:48

صفحه بندی