بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
وسیلہ در وسیلہ
تحقیق و تحریر: طیّب کاظمی
اللہ نے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ میرے پاس ڈائریکٹ آنے کی یا کچھ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے پاس آنے یا بھیجنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ جیسا کہ سورہ مائدہ میں ارشاد ہوا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ۔۔۔۔۔۔۔(35
ترجمہ: ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو۔
قرآن نے نا صرف وسیلہ تلاش کرنے کا کہا بلکہ وسیلہ دکھا بھی دیا۔
جیسا کہ سورہ آل عمران آیت 28
ترجمہ: خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔۔۔۔۔الخ
سورہ آل عمران آیت 31
ترجمہ: اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری(رسول
ص) پیروی کرو-۔۔۔۔۔۔الخ
سورہ النساء آیت 59
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اوران کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہو۔
وغیرہ وغیرہ۔
اب ہم نے جب تمام وسائل پر نظر دوڑائی تو ہم کو محمّد وآل محمّد ص سے بہتر کوئی وسیلہ نظر نہیں آیا جو اللہ کے سب سے قریب ہیں۔ سو ہم نے ہر معاملہ میں ان سے رجوع کیا۔
یعنی جب بھی اللہ کے پاس کوئی عمل یا ہدیہ بھیجنا پڑے گا تواس کے لیے محمّد وآل محمّد ص کے پاس آنا پڑے گا۔ اسی لیے ہم نماز پڑھنا شروع کرتے ہیں تو تکبیر کہتے ہیں اور اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش سمجھتے ہیں لیکن جب نماز تمام ہو رہی ہو تو کہتے ہیں ”السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته“ ارے یہ کیا! عبادت اللہ کی ہو رہی ہے اور سلام بھیج رہے ہیں رسول اللہ ص پر۔ یعنی ہم نماز کا اختتام کر رہے ہیں اور سلام پیش کر کے کہہ رہے ہیں کہ ہماری عبادت کو اللہ تک پہنچا دیجیے۔
لیکن یہاں ایک حیران کن بات سامنے آئی ہے اور یہی ہمارے تحریر کا اصل مقصد بھی۔ کہ اگر محمّد وآل محمد ص کے پاس کچھ بھیجنا ہے تو کیا ڈائریکٹ بھیج سکتے ہیں؟ جواب: نہیں!
مجھے جو اس کی دلیل ملی ہے۔ وہ یہ ہے کہ محمّد وآل محمد ص پر سب سے بہترین چیز جو ہم ان کو ہدیہ کرتے ہیں وہ ہے صلوات۔ جیسے سورہ احزاب میں ذکر ہو رہا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (56
بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلٰوات بھیجتے ہیں تو اے صاحبانِ ایمان تم بھی ان پر صلٰوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو۔
لیکن جب ہم محمّد وآل محمد ص پر صلوات بھیجتے ہیں تو کیا پڑھتے ہیں؟
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ! محمّد وآل محمد ص پر صلوات بھیج۔
جو ترجمہ اس کا لوگ کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ کہ اے اللہ! محمّد وآل محمد ص پر رحمت نازل فرما۔ یہاں لفظ ”اللَّهُمَّ صَلِّ“ کا استعمال ہوا ہے یعنی اے اللہ صلوات بھیج۔ رحمت کا ذکر تو ہے ہی نہیں؟
سوچا جائے تو کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اللہ ہم کو کہہ رہا ہے کہ اللہ اور فرشتے صلوات بھیج رہے ہیں ایمان والوں تم بھی بھیجواور ہم آگے سے جواب میں کہتے ہیں اے اللہ تو صلوات بھیج؟
یعنی اللہ ہماری ڈائریکٹ بھیجی ہوئی صلوات بھی قبول نہیں کرتا بلکہ ہم کو جب بھی صلوات بھیجنی ہے تو بوسیلہ اللہ ہی بھیجیں گے۔
پس ثابت ہوا کہ جب بھی اللہ کو اپنی عبادات بھیجنی ہے تو بوسیلہ محمّد وآل محمد ص بھیجنی ہے اور جب محمّدوآل محمدص کو ہدیہ بھیجنا ہے تو بوسیلہ اللہ بھیجنا ہے۔
کیا شان ہوگی ان عصمت و طہارت والی ذوات مقدسہ کی۔ کہ اللہ حکماً صلوات بھیجنے کا بھی کہے اور پھر بھیجنے کے لیے وسیلہ بھی خود بنے۔ سبحان اللہ!
پتا نہیں لوگ کیسے اُن کو اپنے جیسا کہہ دیتے ہیں۔
اللہ ہم سب کومحمد وآل محمدص کی صحیح والی معرفت عنایت فرمائے۔
اب سمجھ آئی کے حکیمِ امّت ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیوں فرمایہ۔
کہ
کی محمدۖ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
لوح و قلم تیرے ہیں؟؟؟؟؟ :-)
اپنی کج بیانی کا مکمل اعتتراف کرتا ہوں اس لیے الفاظ ضرور سادہ ہیں لیکن پیغام بہت بڑا۔
والسلام
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر