عید مباھلہ کی اہمیت اور اعمال
مشہور روایت کے مطابق۲۴ ذی الحجہ عید مباہلہ کا دن ہے اس دن حضرت رسول ﷺ نے نصارٰی نجران سے مباہلہ کیا تھا واقعہ یوں ہے کہ حضرت رسول ﷺنے اپنی عبا اوڑھی ،پھر امیرالمؤمنین (ع)،جناب فاطمہ (سلام اللہ علیھا)اور حضرت حسن و حسین (ع)کو اپنی عبا میں لے لیا ۔تب فرمایا کہ یا اللہ ! ہر نبی کے اہلبیت (ع)ہوتے ہیں اور یہ میرے اہلبیت(ع) ہیں ۔ پس ان سے ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جیسے پاک رکھنے کا حق ہےے اس کے بعد حضرت رسول خدا ﷺ نے ان چار ہستیوں کو اپنے ساتھ لیا اور! مباہلہ کے لئے نکلے ،نصاریٰ نجران نے آپ کو اس شان سے آتے دیکھا ،اور علامات عذاب کا مشاہدہ کیا تو مباہلہ سے دست بردار ہو کر مصالحت کر لی اور جزیہ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔آج ہی کے دن امیرالمؤمنین (ع) نے حالت نماز میں سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی ۔اور آپ کی شان میں آیہ مبارکہ ”اِنَّمَاْ وَلَیُّکُمُ اللهِ۔۔۔“ نازل فرمائی۔ خلاصہ کلام یہ کہ یوم مباہلہ بڑی عظمت اور اہمیت کا حامل ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔
(۱)غسل ۔
(۲)روزہ۔
(۳)دورکعت نماز کہ جسکا وقت، ترتیب اور ثواب عید غدیر کی نماز کی مثل ہے ،البتہ اسمیں آیةالکرسی کو ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ تک پڑھے ۔ نماز کا تفصیلی طریقہ یہ ہے کہ ٢ رکعت نماز ظہر کے وقت پڑھے جسکی ہر رکعت میں سورہٴ الحمد کے بعد ١٠ مرتبہ سورة الإخلاص پڑھے فٹ ١٠ مرتبہ آیتہ الکرسی اور اسکے بعد ١٠ مرتبہ سورہٴ القدر پڑھے
(۴) اس دن زیارت جامع الکبیر اور زیارت جامع الصغیر پڑھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے
(٥) دعائے مباہلہ:یہ ماہ رمضان کی دعائے سحر کے مشابہ ہے اور اسکو شیخ و سید دونوں نے نقل فرمایا ہے
منبع:www.islaminurdu.org.com
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر