خرید بک لینک

درباره سایت

پاسداران حریم ولایت

آخرین مطالب

امکانات وب

منزل بہ منزل کربلا قسط۔ 10

" مقام ذوحسم" پر ابا عبد اللہ حسینؑ کا خطاب اور اصحاب باوفا کا جواب

"مقام ذوحسم " پر خامس ال عبا ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام نے جب دیکھا کہ دنیا اپنی پیٹھ دکھا چکی ہے. اور لوگ بیعت شکنی کرچکے ہیں تو آپؑ نے یہاں سے کوچ کرنے سے قبل ایک ایسا بلیغ و انقلابی خطبہ دیا .جس سے حرم رسول اللہ و اصحاب باوفا پر واضح ہو گیا کہ زینت دوش نبی حسین ابن علیؑ کا اب آگے کا کیا ارادہ ھے۔۔۔۔۔۔

عقبہ بن ابی العیزاز راوی ہیں کہ

آپؑ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا

" اما بعد. اے میرے ہمراہیو! حالات تم بخوبی دیکھ رہے ہو کہ کس نہج پر پہنچ چکے ہیں. بیشک دنیا اپنا رخ ہم سے پھر چکی ہے. اور زمانہ ہم سے روٹھ گیا ہے، ہم سے دنیا کی راحتوں اور آسانیوں نے منہ پھیر لیا ہے.

پس اب ہمارے پاس راحت دنیا میں سے اتنا ہی رہ گیا ہے گویا پانی کے ایک گھونٹ کے برابر .

یا اس چارے کے بمقدار جو کسی چوپاۓ کے چرنے کے لیے کافی ہو۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا اور باطل سے روکا نہیں جارہا. پس جب ایسے حالات ہوں تو مومن کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات میں رغبت دکھائے. بلاشبہ

میں موت کو شہادت کے سوا پسند نہیں کروں گا اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا ذلت تصور کرتا ہوں "

" راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر زہیر بن قین کھڑے ہوے اور اصحاب سے کہا کہ تم بولتے ہو یا میں بولوں ؟

سب نے کہا آپ ہی ہماری طرف سے بیان کریں پس زہیر نے حمد و ثنا بیان کی پھر کہا. یابن رسول اللہ !صلی اللہ علیہ والہ وسلم!

ہم نے آپؑ کی بات سنی. اللہ آپؑ کے امر کی اصلاح کرے. اللہ کی قسم !

اگر یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی ہوتی اور ہم اس میں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوتے. تب بھی ہم اپنی جانیں آپؑ کی مدد و نصرت و یاوری میں ضرور قربان کرتے. اور اس دنیا کی زندگی کو ترک کر دیتے"

یہاں امام حسینؑ نے زہیر و اصحاب کے حق میں دعائے خیر کی.

پھر حسینؑ کے باوفا صحابی نافع بن ہلال کھڑے ہوئے اور کہا.

" اللہ کی قسم!

ہمیں اپنے رب سے ملاقات میں کوئی کراہت محسوس نہیں ہوتی. ہماری اس سے جنگ ہو گی جس سے آپ کی جنگ ہے. اور ہماری اس سے صلح ہے جس سے آپ کی صلح ہو گی۔۔۔۔۔۔"

پھر قاری کوفہ جناب بریر بن خضیر کھڑے ہوئے اور کہا

" اے فرزند رسولؑ ! اللہ کی قسم!

یہ اللہ کا ہم پر احسان ہے کہ ہم اپنی جانیں آپؑ پر قربان کریں اور ہمارے اعضاء وجوارح آپؑ کی نصرت میں قطع ہوں. پھر ہم قیامت کو آپؑ کے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوں اور وہ ہمارے شفیع بنیں"

" راوی بیان کرتا ہے کہ حر بن یزید ریاحی مسلسل حسینؑ کو سمجھا رہے تھے کہ وہ اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈالیں. لیکن حسینؑ نے حر سے فرمایا

" کیا تم مجھے موت سے ڈراتے ہو؟

پھر ایک شعر ارشاد کیا جس کا ترجمہ یہ ہے.

" بیشک میں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے اور موت میں جوان مردوں کے لیے کوئی عار نہیں ہے. جب وہ حق کے ساتھ ہوں . اور صالحین کی اقتداء میں ہو.

پس اگر میں زندہ بچ گیا تو مجھے اپنی زندگی پر ندامت نہیں ہو گی اور اگر میں مارا گیا تو میرے قاتلوں کو ذلت و رسوائی نصیب ہوگی"

راوی کہتا ہے کہ

حسینؑ کی یہ باتیں سن کر حر آپؑ سے کچھ دور کھڑا ہوا. اور فاصلہ رکھ کر حسینؑ کے ساتھ چلنے لگا. یہاں تک کہ قافلہ صبر و رضا مقام " عذیب الہجانات " پر پہنچا.۔۔۔۔۔۔۔

اس منزل پر عبرت کا ایک قصہ ہے وہ آئندہ پوسٹ میں بیان کروں گآ.

تب تک اس حقیر و عاصی کو اجازت دیجیے اور دعاوں میں نہ بھولیے. حسینؑ اور ان کے نانا و بابا اور بھائی حسن مجتبیؑ آپ سب مومنین کے وارث بنیں آمین

حواله جات.

(1) الارشاد 208-

( 2) اللهوف 70-

( 3) تاریخ طبری 7/301

( 4) نفس المهموم. 173-174.

(5) مقتل الحسین الخوارزمی.

(6) مقتل المقرم

(7) ملحمة الحسینة. ایت الله الشهید مطهری.

التماس دعا ...... اے ایس امجد

برچسب: نویسنده: متین رنجبر تاريخ: پنجشنبه 27 شهريور 1399 ساعت: 14:56

صفحه بندی