

حدیث قدسی
جو شخص میرے کسی دوست کی اھانت کرتا ھے وہ گویا مجھ سے لڑنے کیلۓ کمین گاہ میں بیٹھا ہے۔ واجبات کی ادائیگی سے بڑھ کر میرا تقرب حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ایک شخص مسلسل نوافل کی بجا آوری کے ذریعہ سے میرا تقرب حاصل کرتا ہے اور یہاں تک میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا میں وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی وہ آنکھ بین بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کی وہ زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، پس اگر وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو لبیک کہتا ہوں اور اگر مجھ سے سوال کرتا ہے تواسے عطا کرتا ہوں اور میں نے کبھی کسی کام میں تردد نہیں کیا جیسا کہ مومن کی موت کے وقت کرتا ہوں وہ موت کو نا پسند کرتا ہے اور میں اس کی نا خوشی کو نا پسند کرتا ہوں۔
وضاحت
اس قسم کی احادیث کے ساتھ ہمیشہ صوفیہ اپنے عقاید باطلہ "اتحاد و حلول اور ہمہ اوست"پر استدلال کرتے ہیں اور یہ سب کچھ ان احادیث کاصحیح مفہوم نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اس کے صحیح معنی درج ذیل ہیں۔ٓ
1- جب بندہ اس طرح اپنے خالق و مالک کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے حال پر اس طرح نظر عنایت کرتا ہے کہ وہ کوئ کام اللہ کی مرضی و منشاء کے کے خلاف نہیں کرتا، وہ دیکھتا ادھر ہے جدھر خدا کی رضا ہوتی ہے سنتا وہ بات ہے جو منشاء خدا کے مطابق ہوتی ہے اورمنہ سے بولتا وہ کچھ ہے جو خدا کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ معنی عرف عام میں متعارف ہیں۔
2- جب بندہ اس طرح میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس کا اس طرح حامی و مددگاراور موید ومعاون بن جاتا ہوں جس طرح اس کے ہاتھ ، پاٰؤں وغیرہ اس کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی بالکل واضح ہے۔
3- جب بندہ میری اس طرح فرمانبرداری کرتا ہے تو میں بمنزلہ اس کے سمع و بصر وغیرہ کے ہو جاتا ہوں یعنی اپنے ان اعضاء سے مدد نہیں لیتا بلکہ ہر معاملہ میں مجھ سے استمداد کرتا ہے جیسا کہ "ان دعانی اجبتہ" اس مطلب پر دلالت کرتا ہے کہ اگر مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں۔
4- جس طرح اس کے ہاتھ ، پاوں ، سمع ، بصر وغیرہ اعضاء اس کے قریب ہیں میں مجازی طور پر (علم و احاطہ کے اعتبار سے ) اس کے اس قدر قریب ہوتا ہوں جتنے یہ اعضاء، اس لۓ جب مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں اور جب سوال کارتا ہے تو اسے عطا کرتا ہوں۔ یہ تھے اس حدیث کے بالکل درست مفہوم جن کے بعد یہ حدیث بالکل بے غبار ہو جاتی ہے۔
مخفی نہ رہے اس حدیث کے آخر میں مومن کو موت کے وقت خدا کے جس تردد کا تزکرہ موجود ہے یہ سب من باب المجاز ہے کہ خدا اپنے بندہ مومن کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے جسے بحسب ظاہر اس کے تردد سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ورنہ درحقیقت خدا کےلۓ تردد محال ہے کیونکہ تردد اس شخص کو ہوتا ہے جس کو کسی کام کے انجام کا علم نہ ہو لیکن جو ذات بکل شیء علیم و خبیر ہو اور عالم الغیب والشہادۃ ہو اس کے متعلق تردد کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
کواکب مضیئہ ترجمہ جواھر سنیئہ در احادیث قدسیہ
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر