تلاش من
جسم سے اپنے گزر کر روح کو تلاش
گرمل جائے تجھ کو روح تو خدا کو تلاش کر
مٹ جائے گاہر گناہ عزائے حسین ع سے
اشک واقعی کرے جو تجھ کو عطا وہ معطی تلاش کر
سجدوں سے تیرے کیا ہوا عمریں گزر گئی
جاودانگی کرے جوتجھکو عطا وہ باقی تلاش کر
عقیدہ تیرا لٹ گیا راہزن کے ہاتھوں سے
عقیدہ تیرا بچھائے جو وہ حافظ تلاش کر
ہر نفس تڑپ رہا ہے گناہوں کی آگ میں
اس آگ سے جوبچھائے وہ قادر تلاش کر
برسائے جو ہم پہ رحمتوں کی برسات صبح وشام
اس بے کراں رحمت کا مالک تلاش کر
رباب نقوی



برچسب:
نویسنده: متین رنجبر