خرید بک لینک

درباره سایت

پاسداران حریم ولایت

آخرین مطالب

امکانات وب

کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا

حقیقت میں امام خمینی{رح} نے اپنے اسلامی انقلاب کوحسینی تحریک کی بنیادوں پر قرار دیا اور وه یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ سید الشهداء امام حسین علیه السلام کا قیام اور آپ {ع} کی شہادت کو مسلمانوں کے اجتماعی طور پر کام کرنے کا معیار قرار دیا جانا چاہئیے۔ اس سلسلہ میں امام خمینی{رح} فرماتے ہیں:" جو کام سید الشهداء {ع} نے انجام دیا، اور جو نصب العین وه رکھتے تھے اور جس راه پر وه چلے اور کامیابی انہیں شہادت کے بعد حاصل ہوئی وه اسلام کے لیے حاصل ہوئی۔ یہ سبق آموز عبارت فریضہ بھی ہے اور خوشخبری بھی، فریضہ اس لحاظ سے که مستضعفین پر فرض ہے که وه کیل کانٹے سے لیس سامراجی اور شیطانی طاقتوں کے خلاف، سید الشهداء{ع} کے مانند قیام کریں۔ اور خوشخبری اس لحاظ سے ہے که ہمارے شہیدوں کو کربلا کے شہیدوں میں شمار کیا گیا ہے۔"

اس رہبر عظیم الشان نے جنگ کے دوران فرمایا:" کربلا کی جنگ اگرچہ زمانہ کے لحاظ سے سب سے مختصر {نصف دن کی} جنگ تھی، لیکن ایک لحاظ سے یہ ظلم و باطل سے طویل ترین جنگ ہے اور جب تک ہر تمنا رکھنے والا یہ آرزو کرے کہ کاش میں بھی کربلا میں ہوتا اور سید الشهداء کی مدد کرتے ہوئے شہادت پر فائز ہوتا {یا لیتنا کنا معکم فـنفوز فوزاً عظیماً [4]} اس کے لیے کربلا کا محاذ گرم اور عاشورا کا معرکہ جاری ہے[5]-"

بہتر الفاظ میں، جس طرح امام حسین علیه السلام، آدم، ابراھیم، نوح {علیهم السلام} اور محمد مصطفٰے {صلی الله علیه وآلہ} کے وارث ہیں، اسی طرح عاشورا کے پیرو بھی خط سرخ شہادت کے وارث ہیں اور وه کربلا کے پرچم کو زمین پر گرنے نہیں دیتے اور سیاسی پہلو میں یہی تشیع کا جوہر ہے، چنانچہ خود امام حسین علیه السلام فرماتے ہیں: فلکم فیّ اسوۃ، میرا کام، آپ لوگوں کے لیے مثال ہے[6]-"

یہ نظریہ، اس نظریہ کو مسترد کرتا ہے، جو کربلا اور حسین علیه السلام کے قیام کو صرف امام{ع} تک محدود فریضہ جانتے ہیں، جس کی پیروی نہیں کی جا سکتی ہے۔

ایک مصنف لکھتا ہے:" ہمیں یقین ہے که اگر امام حسین علیه السلام ہمارے زمانہ میں ہوتے، تو قدس، جنوب لبنان اور مسلمانوں کے اکثر علاقوں میں دوسرا کربلا برپا کرتے اور وہی موقف اختیار کرتے، جو انهوں نے معاویہ اور یزید کے مقابلے میں اختیار کیا تھا-"

[1] البتہ بعض لوگوں نے مزکوره جملہ کو مدرک و ماخذ کے بغیر امام صادق{ع} کی زبان سے نقل کیا ہے، ملاخطہ ہو: پیام عاشورا، عباس عزیزی،ص28؛ فرهنگ عاشورا، جواد محدثی، ص371..

[2] البته کچھ لوگوں نے ایسے قرائن بیان کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ معصومین کی حدیث نہیں ہے،

ملاخطہ ہو: مجلہ ی علوم حدیث، شماره 26..

[3] صحیفہ نور،ج 9،ص 202.

[4] زیارت عاشورا.

[5] صحیفہ نور،ج 20،ص 195.

[6] تاریخ طبری،ج 4،ص 304.

[7] ابیاتی از مثنوی:«شیعه نامه »،محمد رضا آقاسی (کیهان 12/6/71).

برچسب: کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا,کل یوم عاشورا وکل ارض کربلا از کیست,سند کل یوم عاشورا وکل ارض کربلا,معنی کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا,جمله کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا از کیست,کل یوم عاشورا کل ارض کربلا یعنی چه,کل یوم عاشورا وکل ارض کربلا یعنی چه,کل یوم عاشورا کل ارض کربلا میثم مطیعی,جمله كل يوم عاشورا و كل ارض كربلا صحیح است ؟,كل يوم عاشورا كل ارض كربلا, نویسنده: متین رنجبر تاريخ: سه شنبه 20 مهر 1395 ساعت: 23:39

صفحه بندی