یوم عرفہ کی اہمیت:
اسلام میں یوم عرفہ کی بہت خاص اہمیت ہے لہذا اس مناسبت سے بہت روایات و احادیث ملتی ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
حضرت پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: خداوند متعال عرفہ کے دن صحرائے عرفات میں اپنے حضور صف در صف حاضر ہونے والے اور عاشقانہ و عارفانہ فریادیں بلند کرنے والے اپنے با معرفت بندوں پر فخر و مباہات کرتے ہوئے فرشتوں سے فرماتا ہے :" اے میرے فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو کہ جو دور دراز اور نزدیک سے بہت مشکلات برداشت کر کے یہاں پر آ ئے ہیں ، تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں ان کی حاجات پوری کر رہا ہوں اور ان میں سے نیک و پرہیزگار لوگوں کی خاطر ان کے گناہوں کو بخش رہا ہوں۔(1)
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: جو شحض بھی یوم عرفہ دعائے عرفہ کے مراسم کو جانے سے پہلے کھلے آسمان کے نیچے دو رکعت نماز خداوند متعال کی بارگاہ میں ادا کرے ، اپنی تمام خطاؤں اور گناہوں کا اعتراف کرے اور بارگاہ پروردگار سے مغفرت و معافی مانگے ؛ خداوند متعال نے جو کچھ اہل عرفات کے لیے مقدر فرمایا ہو، اس شحض کو بھی عطا فرمائے گا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دے گا.(2)
حضرت امام حسین حج کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے ، صحرائے عرفات میں جبل الرحمہ (ایک پہاڑ) کے دامن میں اپنی ملکوتی آواز میں خالق ہستی کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات میں مشغول ہو گئے
آنحضرت کی دلنشین آواز سے نہ فقط صحرائے عرفات میں موجود حجاج بہرہ مند ہو رہے تھے بلکہ وہ تاریخی و عاشقانہ مناجات آج تک عشق خدا رکھنے والے دلوں کو گرما کر تازگی بخش رہی ہیں ، امام عالیمقام نے اس دعا کے دوران ایک فراز میں یوں عرض کی:
:پروردگارا! تیری آیات اور نشانیوں میں میرا فکر کرنا تیرے دیدار میں دوری کا باعث بنتا ہے پس مجھے اپنی خدمت پر لگا دے جو مجھے تیرے ساتھ متصل کر دے (یعنی میں ، تیرا بندہ تیرے اور اپنے درمیان دوری اور فاصلے برداشت نہیں کر سکتا)، تیرے وجود پر کسی اور چیز کے ذریعے کیسے دلیل لائی جا سکتی ہے جبکہ ہر چیز اپنے وجود میں تیری محتاج ہے ؟ کیا تیرے علاوہ کوئی ایسا طہور ہے جو تو نہ رکھتا ہو اور کیا تیرے علاوہ کوئی اس قدر ظاہر و آشکار ہے جو تجھے مزید ظاہر و آشکار کر سکے؟اے معبود!تو کب کسی دلیل کا نیاز مند رہا ہے کہ تجھ پر دلالت کرے؟ ! (3)
برچسب: یوم عرفه کی فضیلت,
نویسنده: متین رنجبر